چین پر ستارہ سرخ

کتاب کا اصل سرورق-بشکریہ ویکیپیڈیا

تحریر: فیصل انس

نام کتاب: (چین پر ستارہ سرخ)
مصنف: ایڈگر سنو
ملک: ریاستہائے متحدہ امریکا
زبان: انگریزی
موضوع: چینی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ

یہ کتاب اصلا انگریزی زبان میں ہے اور امریکا میں شائع ہوا۔ یہ کتاب کیا چین میں کمیونسٹ کی تاریخ ہے جو خونی بھی اور انقلابی بھی۔ چین قدامت پرستی سے نکل کر جدت پسند بن رہا تھا اور یہ بدلاو اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ چین کی اپنی ایک تاریخ ہے جو دنیا کی کسی بھی تاریخ سے بلکل الگ اور جدا ہے۔ چین کی دنیا ہی الگ تھی کیونکہ یہ باقی دنیا سے بالکل کتا ہوا تھا۔ یہاں زمانہ قدیم تک کسی بھی تہذیب کا اثر نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی بدلاو دیکھنے کو ملا تھا۔ اگر کچھ تھا تو اس کی اپنی بادشاہت، اپنا رسم و رواج اور اپنی تاریخ جس میں صرف چینی ثوافت تھی اور کچھ نہیں۔ پھر کمیونسٹوں کا یہاں تعارف ہوا۔ روس اے آنا جانا ہوا اور پھر چین نے کروٹ لی اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے چین کو سرخ کردیا۔ سرخ پرچم، سرخ فوج لہو سے سرخ تاریخ اور سرخ داستان۔ بس یہی کچھ ہے اس کتاب میں۔ اسی لئے اس کتاب کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مصنف ایڈگر سنو کی 1937ء میں تصنیف کردہ ایک کتاب اس وقت منظر عام پر آئی جب جب چین میں گوریلا جنگ جاری تھی اور چین مغرب کے زیر نگیں تھا۔ 1931ءکے بعد یہ کتاب مغربی بقطہ نظر سے چین کو سمجھنے کی سب سے اہم اور موثر کتاب تھی جس نے 1930ء کی دہائی میں لال چین کے تئیں مغرب کی ہمدردی پر بھی کافی اثر ڈالا۔

یہ ایک تاریخی کتاب ہے جس میں مصنف حال میں رہ کر ماضی کو یاد کرتا ہے۔ ان دنوں میں وہ چینی سرخ فوج میں اپنا وقت گزار رہا تھا۔ یہ 1936ء کا زمانہ تھا۔ وہ وقت کے دارالحکومت باوان میں تھا۔ یہاں کے بعد وہ پھر وہ ین ان گیا۔اس نے ماو اور دیگر اہم لیڈران کے بہت اہم اور خصوصی انٹرویولئے جس میں احتجاجوں اور لانگ مارچ کی مکمل تفصیل ہے۔ اس نے دونوں طرف کے لیڈروں کے احوال لکھے اور ان کے نقطہ نظر پر تفصیلی بحث کی۔ ان میں چو این لائی، پینگ دیہوائی، لین بیاو، ہی لانگ اور ماؤ زے تنگ وغیرہ جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں جو آنے والے چین کے معمار ثابت ہوئے۔ اس زمانے میں اسنو کی تحریر کے علاوہ کوئی اور قابل اعتماد ماخذ ایسا نہیں تھا جو کمیونسٹ کے زیر نگیں علاقوں کی خبر مغرب کو دیتا۔ یہ پہلی کتاب تھی جس نے مغرب اور امریکا کو چین کے اندرونی حالات کی مفصل اور حقیقی خبر دی اور اس سے قبل لکھی گئی انججیز سمیڈلی میں لانگ مارچ وغیرہ کی تفصیلات تھیں مگر وہ عینی مشاہدوں پر مبنی نہیں تھیں اور اسی وجہ سے اس کتاب کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ مصنف موصوف نے نہ صرف اس کا مشاہدہ کیا بلکہ لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان سے بات کی اور ان سے ہی ان کے نظریوں، مقاصد اور لائحہ عمل کے بارے میں دریافت کیا۔ اس سے قبل کسی نے بھی وہاں جا کر لوگوں کے انٹرویو لینے اور متاثر علاقے کو دیکھنے اور اصل حقیقت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کی جرات نہیں کی۔ اس سے قبل اسنو کو عالمی صحافی کے طور پر نہیں جانا جاتا تھا مگر چین میں کمیونسٹ تحریک کو لکھنے اور چھاپنے کے بعد ان کو صداقت کی سند مل گئی۔ کمیونسٹ علاقوں میں زندگی کی واضح تصویر اور کومنتانگ کی حکومت میں بد عنوانی کی خبروں کو انہوں نے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے۔ کئی چینی لوگوں ماؤ کی زندگی کے بارے میں ان کی سوانح عمری کے ترجمہ کے بعد ہی جان پائے۔ ادھر شمالی امریکا اور یورپ میں بھی یہی حال تھا۔ ان علاقوں میں لبرل خیالات کے حامل افراد کو ان خبروں سے بڑی دل شکنی ہوئی کیونکہ کمیونسٹ تحریک کو فاسسٹ مخالف اور ترقی پسند بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ حالانکہ اسنو نے یہ واضح کیا ہے کہ ماؤ کا ہدف چین پر قبضہ کرنا تھا لیکن کئی قارئین کو یہ شبہ ہونے لگا کہ چینی کمیونسٹ اشتراکی اصلاحات کے خواہاں ہیں۔ کتاب کے 1968ء کے ایڈیشن میں اسنو کا دیباچہ کتاب کے مضمون کو مکمل بیان کردیتا ہے۔

خود غرض مغربی طاقتیں چین میں کسی عجوبہ کی منتظر تھیں۔ وہ ایسی قوم پرستی کا خواب دیکھ رہے تھے جو جاپان کو ایسی سزا دے کہ پھر کبھی وہ مغربی کالونیوں پر نظر نہ رکھے – جبکہ یہی جاپان کا ہدف تھا۔چین پر ستارہ سرخ یہ دکھانے کی کوشش کررہا ہے کہ چینی کمیونسٹ جاپان مخالف قوم پرستی پیدا کر رہے ہیں۔ جاپان کو بھگانے کے لئے قوم پرست لیڈروں کا جاگنا بہت ضروری ہے۔یہ بھی دیکھنے لائق ہے کہ کس ڈرامائی انداز میں ریاستہائے متحدہ امریکا نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے [۔۔۔] یہ کتاب نہ صرف چینی قارئین بلکہ تمام چینی لوگوں کے لئے چین میں کمیونسٹ تحریک کا پہلا ماخذ ہے اور چین میں سماجی تحریک کی تین ملینیم کی تاریخ کی پہلی مربوط کتاب ہے۔چین میں اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔

Tagged , , , , , , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے