وزیر اعلی، دہلی

تمہید

دہلی بھارت کا دارالحکومت ہے اور اسے یہ امتیاز قدیم زمانے سے ہے کیونکہ بھارت پر حکومت کرنے والی اکثر سلطنتوں نے دہلی کو ہی اپنا پایہ تخت بنایا۔ 1947ء میں آزادی ملنے کے بعد  حکومت جمہوریہ ہند نے دہلی کو ہی نئے ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ جغرافیائی طور پر  اس کا جائے وقوع کچھ ایسا ہے جہاں سے پورے ہندوستان پر نگرانی رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ 

دہلی گرچہ ایک شہر ہے مگر یہ کسی صوبہ کے ماتحت نہیں ہے حالانکہ دہلی کے پڑوس میں اتر پردیش اور ہریانہ جیسی ریاستیں ہیں۔ دہلی کو آئین ہند کی رو سے یونین علاقہ بنایا گیا ہے مگر یہاں گورنر راج کے بجائے باقاعدہ وزیر اعلی ہوتا ہے اور انتخابات کے ذریعے دیگر ریاستوں کی طرح یہاں ایم ایل اے منتخب ہوتے ہیں جو مجلس قانون ساز کو جوابدہ ہوتے ہیں۔  اس مضمون میں ہم دہلی کے وزیر اعلی کی بات کریں گے اور ان کی تاریخی حقائق پر روشنی ڈالیں گے۔ فیصل انس

تعارف

دہلی کا وزیر اعلیٰ وہاں کا سربراہ حکومت ہوتا ہے۔ آئین ہند کے مطابق دہلی کا گورنر ازروئے قانون دہلی کا سربراہ ہوتا ہے مگر درحقیقت دہلی میں حکمرانی وزیر اعلیٰ کی ہوتی ہے۔ یہ بات الگ ہیکہ دیگر ریاستوں کی طرح دہلی کے وزیر اعلی کو تمام اختیارات نہیں ہوتے ہیں جیسے دہلی پولس گورنر کے ماتحت ہے جبکہ دیگر ریاستوں میں پولس صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے۔ دہلی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد زیادہ نششتیں جیتنے والی پارٹی یا زیادہ نشستیں ثابت کرنے وال اتحادی پارٹیوں کو گورنر جنرل مدعو کرتا ہے اور حکومت تشکیل دینے کی دعوت دیتا ہے۔ گورنر کے مشورہ پر صدر بھارت وزیر اعلیٰ اور کابینہ نامزد کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور کابینہ اسمبلی کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ دہلی کی حکومت کی مدت پانچ برس ہے جس کے بعد اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے اور از سرنو  انتخابات ہوتے ہیں۔ 1952ء سے اب تک دہلی نے 7 وزرائے اعلیٰ کا دور دیکھا ہے۔

تاریخ

دہلی کے سب سے پہلے وزیر اعلی انڈین نیشنل کانگریس کے چودھری براہم پرکاش تھے۔ مگر ان کے بعد یہ عہدہ 37 برسوں کے لئے ختم کر دیا گیا۔ 1993ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مدن لال کھورانا نے دہلی کی وزارت اعلیٰ کا حلف لیا۔ 1998ء میں شیلا دکشت نے تاریخ رقم کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور کانگریس کی دہلی میں واپسی کرائی۔ انہوں نے بطور وزیر اعلی حلف لیا اور اس طرح ان  کا 15 سالہ دور شروع ہوا۔ وہ بھارتی خواتین وزرائے اعلیٰ میں سب سے زیادہ مدت تک گدی نشین رہنے والی وزیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء آتے آتے دہلی میں اور ملک بھر میں کانگریس مخالف تحریک شروع ہوئی جس کا اثر دہلی کے انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملا۔ اروند کیجریوال نامی ایک سرکاری ملازم نے عام آدمی سے ایک خاص آدمی تک کا مشکل اور جدوجہد بھرا سفر طے کیا اور عام آدمی پارٹی نام کی ایک سیاسی پارٹی تشکیل دی جسے دہلی کی عوام نے خوب سراہا اور ان کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے انہیں دونوں ہاتھوں سے کامیاب کرایا اور یوں شیلا دکشت 15 سالہ عہد ختم ہوا اور عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے  ایک انقلابی وزیر اعلی کی حیثیت سے حلف لیا۔ مگر محض 49 دنوں کے اندر انہوں نے استعفی دے دیا اور دہلی میں صدر راج نافذ ہو گیا۔ پورے ایک سال دہلی کا کوئی وزیر اعلی نہیں رہا۔ فروری 2015ء میں پھر سے انتخابات ہوئے اور  عام آدمی پارٹی کو عوام نے دوبارہ حکومت بنانے کا موقع دیا اور تب سے کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ ہیں۔

اب تک کے وزرائے اعلی

نمبر شمار نام پارٹی آغاز اختتام کل مدت
1 چودحھری براہم پرکاش انڈین نیشنل کانگریس 17 مارچ 1952 12 فروری 1955 2 سال، 332 دن
2 مگور مکھ نہال سنگھ
12 فروری 1955 1 نومبر 1956 1 سال، 263 دن






3 مدن لال کھورانا بھارتیہ جنتا پارٹی 2 دسمبر 1993 26 فروری 1996 2 سال، 86 دن
4 صاحب سنگھ ورما
26 فروری 1996 12 اکتوبر 1998 2 سال، 228 دن
5 سشما سوراج
12 اکتوبر 1998 3 دسمبر 1998 52 دن
6 شیلا دکشت انڈین نیشنل کانگریس 3 دسمبر 1998 1 دسمبر 2003 15 سال، 25 دن

شیلا دکشت انڈین نیشنل کانگریس 29 اکتوبر 2008 28 دسمبر 2013
7 اروند کیجریوال عام آدمی پارٹی 28 دسمبر 2013 14 فروری 2014 48 دن
صدر راج N/A 14 فروری 2014 14 فروری 2015 1 سال، 0 دن
(7) اروند کیجریوال عام آدمی پارٹی 14 فروری 2015 برسر منصب جاری۔۔۔۔۔
Tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے