محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی نظر میں

تمہید

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدکے بعد ساری شریعتیں منسوخ ہو گئیں 

اور اسلامی شریعت، جس کا مآخذ قران اور حدیث ہے، تمام انسانوں کے لئے اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوا۔ قرآن میں اللہ عز وجل نے صاف اعلان فرمایا کہ دن اسلام کو سارے انسانوں کے لیے پسند کیا گیا ہے۔ دین اسلام وہی دین ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ اللہ عز وجل نے تمام امتوں میں اپنا پیغام پہونچانے کے لئے کسی نہ کسی انسان کو منتخب کیا اور اسے نبی کا درجہ عطا کیا۔ نبوت کا آغاز تب سے ہوا جب دنیا پر انسانی آبادی شروع ہوئی اور پہلے نبی خود دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام بنے۔ ان کے بعد زمانہ در زمانہ انبیاء دنیا میں تشریف لاتے رہے اور اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہونچاتے رہے۔ اللہ نے اپنی مصلحت کے مد نظر ہر زمانے اور ہر علاقے میں نبی مبعوث کیے۔ لیکن اکثر علاقوں میں انبیاء کو خدا مان لیا گیا اور بعض جگہ تو یہ بھی بھلا دیا گیا کہ وہ کبھی نبی بھی تھے۔ ہندوستان بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نبی کا تذکرہ تو نہیں ملتا البتہ بہت سی بزرگ شخصیات اور دینی رہنما کا تذکرہ ضرور ملتا ہے۔ یہ دعوی تو نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان کی مقدس شخصیات جیسے رام، وشنو، گوتم بدھ، کرشن، گوتم، مہاویر، کرشن وغیرہ نبی تھے مگر ان کے دینی رہنما ہونے سے کوئی منکر نہیں ہے اور بعض اسلامی علماء نے ان میں سے بعض کو نبی بھی لکھا ہے۔ بہر حال یہاں بعض انبیاء کے ثبوت ملتے ہیں جیسے حضرت شیث علیہ السلام۔

 عرب اور آس پاس کی سرزمین اس معاملے میں خوش قسمت ہے کہ وہاں آیا ہوا دین محفوظ رہا۔ عرب کی سرزمین کے انبیا کا تذکرہ قران میں بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مذاہب کے معاملے میں اسلام کے علاوہ اللہ نے قرآن میں یہودیت اور عیسائیت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے کیونکہ اسلام سے قبل یہی دو مذاہب تھے (بشمول زبور کی شریعت)  جن کے پاس آسمانی کتابیں تھیں اور جن کے مپیروکار حقیقی معنی میں مذہب اور شریعت پر عمل پیرا تھے۔ اور ان دونوں کی کتابوں، تورات و انجیل میں آخری نبی کے مبعوث ہونے کا وقت، جگہ، نشانیاں بیان کر دی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہیکہ دونوں مذاہب کے علماء آخری بنی کا شدت سے انتظار کر رہے تھے تاکہ ان کی آمد کے بعد وہ طاقتور ہوجائیں اور دنیا پر غالب آجائیں مگر جب اللہ نے قوم قریش کو، جو کہ اس وقت دین ابراہیمی کو بھلاکر بت پرستی میں مبتلا تھی، یہ شرف بخشا اور ان میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو بات الگ ہو گئی۔ جن یہودی اور عیسائی علماء کو صرف نبی کا انتظار تھا انہوں نے اسلام قبول کر کے نبی کی تابعداری کرلی مگر اکثر نے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ نبی ان کی قوم میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ حالانکہ ان میں سے بھی اکثر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلیم کی نبوت کی تصدیق کرتے تھے مگر اپنے مذہب کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ذیل میں فیسمین کی جانب سے یہودیت میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ پیش کیا جاریا ہے۔ قارئین سے تبصرہ کی گزارش ہے۔ آپ کے تبصرے ہماری حوصلہ افزائی کریں گے اور ہمیں مزید لکھنے کا حوصلہ دیں گے۔ واضح ہو کہ اس مضمون  میں اردوویکیپیڈیا سے استفادہ کیا گیا ہے۔

یہودیت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ خال خال ہی ملتا ہے۔ اور جہاں ان کے بارے میں لکھا جاتا ہے تو وہ خدا کی طرف سے وحی آنے کے دعوی کا انکار ہوتا ہے اور ان کو جھوٹا نبی شمار کیا جاتا ہے۔ اکثر یہودی علماء نے آپ کی نبوت کا انکار کر دیا اور آپ پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔ حالانکہ قرآن کے چیلینج کو کوئی توڑ نہیں سکا۔ قرآن نے یہودیت اور اس کی خرافات کو مفصل بیان کیا ہے۔ یہودیت کے سب سے بڑے نبی حضرت موسی علیہ السلام کو قرآن بالتفصیل ذکر کرتا ہے اور ظاہر ہیکہ بنی اسرائیل کا تذکرہ کیسے چھوٹ سکتا ہے۔ مگر یہودیت کی کتب اور روایات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طریقے سے نہیں بیان کیا گیا ہے جس سے وہ حقدار تھے جبکہ قرآن موسی کو نبی مانتا ہے جن پر ایمان لانا اسلام کی شرائط میں سے ہے۔

اسلام کی طرح یہودیت میں بھی نبی کو سب سے زیادہ مقدس، سب سے بڑا عالم اور خدا کا سب سے مقرب مانا جاتا ہے اور تمام انسانیت کے لیے نمونہ تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق انسانیت میں انبیاء کی ذات ہی سب سے مکمل اور سب سے بزرگ ہے۔ یہودیوں کی کتاب تلمود کے مطابق دنیا میں دس لاکھ انبیاء تشریف لائے مگر اکثر عالمگیر نہیں تھے اسی لئے ان کا تذکرہ کتب میں نہیں ملتا ہے۔ تلمود یہ بھی بیان کرتا ہے کہ یہودیت کے علاوہ بھی انبیاء تشریف لائے ہیں جیسے بلعم بن باعورہ، ایوب، یونس وغیرہ۔

جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہودی علماء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کیا کرتے تھے اور مدینہ کے قبائل کو دھمکی دیاکرتے تھے کہ آخری نبی کو آنے دو پھر ہم تم لوگوں کی خبر لیں گے۔ مگر جب آخری نبی مبعوث ہوئے تو وہ لوگ ماننے سے مکر گئے اور مدینہ کے دیگر قبائل نے آخری نبی کو مانا اور بالآخر یہودیوں کو ہی مدینہ بدر ہونا پڑا۔ یہودیوں کا مدینہ سے نکالا جانا ان کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے اور یہی وجہ ہیکہ ان کو محمد اور ان کے ماننے والوں سے ہمیشہ بغض رہتا ہے۔

معاصرین 

۷ویں صدی میں جیسے ہی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور غیر یہود میں ہوا،  یہودیوں کو بہت ناگوار گزرا۔ بعض خاموش رہے مگراکثر نے سازشیں شروع کردیں اور پیغمبر اور صحابہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ ان میں ایک شاعر ابو عفک نامی تھا جس نے پیغمبر اور صحابہ کے خلاف ایک ہجویہ قصیدہ لکھا تھا۔ ایسا نہیں ہیکہ سارے یہودی اسی ذہنیت کے تھے۔ بعض ایسے بھی جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اچھے صحابی ہوئے۔

موسی بن میمون

یہودی موسی علیہ السلام کے بعد کسی کو نبی ماننے پر راضی نہیں ہوئے۔ ایسے ہی ایک عالم موسی بن میمون تھا جس نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ پاگل قرار دے دیا۔ اس نے اپنے ایک خط ”ایکخطیمنکیجانب میں لکھا کہ “ عیسی کے بعد ایک پاگل نمودار ہوا جس نے اپنے پیشرو (عیسی)  کی تقلید کی کیونکہ اسی نے اس کے لیے راستہ ہموار کیا تھا۔ لیکن اس نے حکومت کے لالچ میں کچھ اور اضافہ کیا اور اسلام کی شکل میں ایک نیا مذہب ایجاد کر دیا“۔ یہ بات بہت عجیب کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ بظاہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکومت بنائی ہی نہیں اور نہ ہی انہوں نے حضرت عیسی کی شریعت کو نافذ کیا بلکہ موسی بن میمون کو بھی معلوم ہو گا اسلام اور عیسائیت میں ایسا ہی بیر ہے جیسا یہودیت اور عیسائیت اور اسلام اور یہودیت میں ہے۔

اس نے اپنی تصنیف کردہ کتاب مشناہ تورات 11: 10-12 میں لکھا ہے کہ بالیقین محمد خدا کے اس منصوبہ کا حصہ ہے جس کے تحت خدا عیسی مسیح کے دنیا میں آنے کی تیاری کر رہا ہے۔ الناصرہ اور الاسماعیلی میں موجود عیسی کے تمام الفاظ (محمد) جو عیسی کے بعد آئے ہیں وہ صرف مسیحی بادشاہ کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں اور تمام دنیا کو ایک ساتھ ایک خدا کی عبادت کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ: ‘تب میں تمام لوگوں کی بات ایک کر دوں گا تاکہ سب کے سب خدا کو پکاریں اور ایک معاہدہ کے تحت اس کی عبادت کریں’۔ یہ بات تو حق ہیکہ اللہ عزوجل عیسی علیہ السلام کو دنیا میں دوبارہ بھیجے گا، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسی کی آمد کی راہ ہموار کرنے آئے تھے؟ یہ موصوف کا پاگل پن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو محمد بھی عیسی کی پیروی کرتے۔

ناتائل الفیومی 

یہودیوں کا ایک اور بڑا عالم ناتانئیل الفیومی گزرا ہے۔ یہ 12 ویں صدی کا اہم یمنی ربی اور ماہر مذہبیات ہے۔ اس وقت کے یہودی اسماعیلیت کا بانی بھی ہے۔ اس نے اپنی مشہور زمانہ کتاب حدیقۃ العقول میں لکھا ہے کہ خدا ہر قوم میں شریعت کے نفاذ کے لیے نبیوں کو مبعوث کرتا ہے اور ضروری نہیں ہے کہ تورات کی تعلیم اس سے ملتی جلتی ہو۔ ناتانئیل صراحتا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن اس کا ماننا ہے کہ محمد جنت سے عربوں کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ ان کا پیغام صرف عربوں کے لیے خاص تھا۔ یہود پر ان کی شریعت نافذ نہیں ہوتی ہے۔ حلانکہ الفیومی کی محمد کی نبوت کی تصدیق ایک بہت ہی غیر معمولی معاملہ ہے اور زمانہ حال تک اس کا یہ خیال اس کے وطن یمن کے باہر غیر معلوم تھا۔

Tagged , , , , , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے