فاروق اعظم کا مقام

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ دنیا کے بڑے حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کی شخصیت کی بلندی آپ کے خلوص و ایمان کی وجہ سے ہے جس نے آپ کو ایسا جری اور با ہمت بنایا کہ کوئی دشمن آپ کی آنکھ میں آنکھ ملا کر جرات نہیں کر سکتا تھا۔

پیش نظر مختصر مگر عشق عمر سے لبریز مضمون ایک نو جوان لکھاری کے قلم کا نتیجہ ہے۔ فیسمین کا اصل مقصد ایسے ہی نوجوان لکھاریوں اور قلم کے سپاہیوں کو ایک خالی صفحہ دینا ہے جہاں وہ اپنے قلم کے جوہر دکھاسکیں۔ فیصل انس

خداوند قدوس کے لاڈلے حبیب وجہِ تخلیق کائنات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیں مخاطبین جاں نثار و فرماں بردار صحابہ کرام ؓ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ’آپ علیہ السلام کے یارِ مرقد‘ و ’خلیفۂ ثانی‘ ،’امیر المؤمنین‘ حضرت ابو حفص عمر فاروق بن خطاب القرشیؓ امت مسلمہ محمدیہ میں حضرت صدیق اکبرؓ کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مرتبہ کے حامل ہیں۔ چنانچہ آپؓ کے مقام و علو مرتبت کا کیا پوچھنا کہ آپؓ تو ایک ایسے بندۂ خدا ہیں کہ جن کی رائے و مشوروں کو موافقتِ وحیِ الٰہی کا شرف عظیم عطا ہوا، پھر خواہ وہ پردہ کے تعلق سے ہو، رئیس المنافقین اُبَی بن سلول کی نمازِ جنازہ کے بارے میں ہو یا پھر حرمتِ خمر کے سلسلے میں۔

ایک ایسے جلیل القدر صحابیؓ‘ کہ جنکے متعلق جہاں ایک طرف ’’لَو کانَ بعدی نبیّاً لکان عمرُ بنُ الخطابِ‘‘ (اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے) کے کلمات لسانِ نبوی سے صادر ہوتے ہیں وہیں دوسری جانب آپؓ کو مُراد نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) ہونے کا شرف ملا کہ آپؓ دعائے مصطفوی کی بناء پر اسلام کی دولت عظماء سے مشرف ہوئے۔

ایک ایسے رفیق و ہمراہ کہ بروقت وصالِ ایزدی حضرت خلیفۂ اول صدیق اکبرؓ نے اجتماعِ صحابہؓ میں ان کے متعلق ’’اللّٰھم استخلفتُ علیھم خیرَ خلقِک‘‘(اے اللہ! میں نے تیری مخلوق پر ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کیا ہے کہ روئے زمین پر اس سے بہتر کوئی نہ تھا) اپنی زبانِ بابرکت سے ارشاد فرمایا۔

ایسے ’والد بزرگوار‘ کہ جنکی صلب سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ جیسے عاشقِ سنن نبویہ  اور حضرت ام المؤمنین حفصہؓ جیسی قابل مدح و فخر اولاد وجود میں آئی۔

ایسے مسلمان کہ آسمان والے(یعنی ملائکہ) جن کے مشرف باسلام ہونے کی خوشخبری و بشارت سے جھوم اُٹھے۔

ایک ایسے ’عادل حکمراں‘ و ’تدیدِ دین کے علمبردار‘ کہ جن کی نسبت و قرابت کی وجہ سے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو ’عدل و انصاف‘ کا گراں قدر تاج نیز ’مجدد اول‘ کا اعزاز ملا۔

ایک ایسے ’جنتی‘ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کے مطابق ’عشرۂ مبشرہ‘ میں آپؓ کا اسم مبارک بھی شامل ہو گیا۔

ایک ایسے’شہید‘ کہ جنکی بشارتِ شہادت خود آپ علیہ السلام نے دی اور منبرِ رسول، مصلاہائے رسول(مصلائے رسول)(۱)، مسجدِ رسول و مدینۂ رسول آپ کی شہادت کے گواہ بنے۔

شیطانِ لعین کے ایک ایسے ’رقیب‘ کہ جس راہ کو آپؓ اختیار کر لیتے، شیطان اس راہ سے گذرنے تک کی جرأت و سکت نہ کر پاتا تھا۔

ایک ایسے ’فاتح‘ کہ ہزارہا علاقوں میں علَمِ اسلام گاڑنے کا سہرا آپؓ ہی کے سر جاتا ہے اور ایک ایسے غازی کہ جن کے ایامِ خلافت میں اسلام بیس لاکھ مربع میل کے وسیع و عریض دائرے میں پھیلا۔

ان تمام کے علاوہ بھی آپؓ متعدد خصوصیات، کمالات کے حامل و پیکر تھے جن کو اپنے اندر سمونے کی یہ مختصر مضمون ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی ضخیم کتابیں بھی استطاعت نہیں رکھ سکتیں۔

مختصرا یہ کہ زمینی حجاب کا آپؓ کیلئے اُٹھا لیا جانا جس سے ہزاروں میل دور حضرت ساریہ کو آواز دیکر بوقتِ جنگ انکی رہنمائی کرنا۔ اور بیت المقدس کے نصاریٰ کا آپؓ کے چہرۂ انور کو دیکھ کر بلا جنگ و جدال پورا شہر آپؓ کے حوالہ کر دینا(چنانچہ آپؓ کو ’فاتحِ بیت المقدس‘ بھی کہا جاتا ہے) مزید یکہ دریائے نیل کا آپؓ کے خط کے ذریعہ سے ہمیشہ کیلئے رواں دواں ہوجانا وغیرہ وغیرہ بہت سے ایسے واقعات و حکایات ہیں کہ جن سے اسلامی تاریخ روشن و تابناک ہے اور جو تاریخِ کائناتِ انسانی کے صفحات پر آبِ زر سے لکھے جانے کے کے قابل ہیں۔

اولٰئک آبائی فجئنی بمثلھم
اذا جمعتنا یا جریر المجامع
Tagged , , , , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے