بیوی اور محبوبہ

فیصل انس۔

بیوی اور محبوبہ

بالی ووڈ میں دو ایسی اداکارائیں ہوئیں جنہوں نے اپنے مداحوں پر بڑے ظلم کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مداحوں پر ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ کام کرنے والے اداکاروں پر بھی ظلم کئے ہیں اور ساتھ ہی بعد میں آنے والے لوگوں پر بھی۔مداحوں پر یوں کہ ان کے جانے کے بعد پھر ان جیسا کوئی نہیں آیا اور لوگ ان کے لئے ترستے ہی رہ گئے۔ پہلے تو اپنی اچھی اداکاری سے لوگوں کی عادتیں بگاڑی اور جب لوگ ان کے عادی ہوگئے تو خود دنیا کو الوداع کہ دیا۔ ان کا الوداع کس قدر درناک تھا یہ تو کئی بار لکھا اور پڑھا جا چکا ہے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والوں پر یوں کہ ان کے شریک اداکار بھی ان کی اداکاری کے سامنے دم بھرتے تھے، جی ہاں، کہا جاتا ہیکہ شہنشاہ جذبات دلیپ کمار بھی ان کے سامنے لڑکھڑا جاتے جاتے تھے اور راجکمار تو ڈائلاگ ہی بھول جاتے تھے۔ بعد میں آنے والوں پر یوں کہ ان کے بعد کی ہیروئنیں ان جیسا بننے کی کوشش کرتی ہیں مگر اب کسی کی کیا مجال کہ پھر کوئی مینا کماری اور مدھو بالا بن سکے۔ جی ہاں، میں ان ہی دو ٹریجدی مہارانیوں کی بات کررہا ہوں۔

دونوں میں کچھ مماثلتیں ہیں اور کچھ انوکھا پن بھی۔ سب سے بڑی مماثلت تو یہ ہیکہ دونوں ہمعصر ہیں اور تقریبا ہم عمر بھی اور اسی وجہ سے دونوں کے درمیان موازنہ کرنا تھوڑا آسان ہوجاتا ہے۔ یوں تو دونوں کے مداح موازنہ کو راضی نہیں ہوتے مگر لکھنے والے الگ ہی قوم ہوتے ہیں۔ وہ ہاتھی کو موازنہ چیونٹی سے کردیتے ہیں تو مدھو اور مینا تو خیر ایک ہی سکے کے یکساں پہلو ہیں۔ دونوں کو دلیپ کمار سے عشق، پیار اور لگاو ہوا ہے مگر دلیپ کسی کے نہیں ہوئے۔ مدھو سے تو ان کا خاصا اچھا ناطا رہا ہے مگر مدھو ٹھہریں شوخ اور چنچل اور دلیپ رہے سنجیدہ اور جذباتی اور ہاں، مردانہ صفات تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی لہذا دونوں میں بن نہ سکی۔ مینا کماری کا تو کہنا ہی کیا۔ ریکھا کی طرح ان کی زندگی کے کئی پہلو بس راز ہی ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی ایک بیٹی بھی تھی مگر پھر اسے افواہوں کی نذر کردیا جاتا ہے۔ اب جون ایلیا تو رہے نہیں کہ ان سے حقیقت حال دریافت کیا جائے۔ جون اسلئے کہ مینا کے شوہر کمال امروہی جون ایلیا کے رشتہ دار ہیں۔ اب کیا میں یہ بھی بتاوں کہ جون بھی امروہہ کی پیداوار ہیں۔

اگر آپ یہ پوچھیں کہ مدھو اور مینا میں سے کس نے زندگی کو انجوائے کیاہے اور کس کی زندگی عذاب رہی تو میں کہوں گا مدھو اس سلسلہ میں زیادہ خوش نصیب تھی کیونکہ مینا کا بچپن بھی کوڑے کے ڈھیر پر تھا اور موت بھی بند کمرے میں۔ ادھر بھی غربت اور ادھر بھی تنہائی۔ مگر ایسا نہیں ہیکہ مدھو کی پوری زندگی قابل رشک رہی۔ بالی ووڈ کی یہ خوبصورت اداکارہ آخر تک محبت کو ترستی رہی۔ جس سے عشق کیا وہ تو بھایا نہیں اور جو بھایا اس نے قدر ہی نہ کی۔ گویا کہ ایک قیمتی نگینہ کسی لوہار کے ہاتھ لگ گیا جو اسے گلے کا ہار بنانے کے بجائے کھیت کا ہل بنانے پر تلا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نگینہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور مدھو کم عمری میں چل بسیں۔

اب سوال یہ آتا ہیکہ دونوں میں کون بہتر تھی۔ کس کی اداکاری اچھی تھی تو یہ فیصلہ ذرا مشکل ہے۔ مدھو تو انارکلی بن گئی تو بھلا اس کی اداکاری پر حرف گیری کرنا خود اپنے قلم کی مذمت کرنا ہے۔ مگر مینا ؟ تو سنئے صاحب، مینا کو جاننا ہے تو پاکیزہ دیکھئے۔ ہاں، فلم پاکیزہ۔

مدھو شوخ، چنچل، ہنس مکھ، پھلجھڑی کی مانند ناچتی گاتی لڑکی تھی جو مصیبتوں میں بھی مسکرا دیا کرتی تھی اور اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر رنج و الم بھی شرما کر دور بھاگ جایا کرتے تھے۔ جبکہ مینا کماری مزاجا سنجیدہ تھی۔ فلموں میں ضرور شوخی دکھائی ہے مگر اس کی شخصیت میں سمجھ بوجھ زیادہ تھی۔ وہ پڑھنے کی شوقین تھی اور سیٹ پر بھی کتابیں لایا کرتی تھی۔ بہت میچیور اور عقلمند۔ کہتے ہیں ان کا انداز تکلم اچھے اچھوں کو ڈھیر کردیتا تھا۔ وہ تھی تو صنف نازک مگر ان کی قدآور شخصیت کے سامنے بڑے سے بڑے سورما اداکار نظریں نیچی کرلیا کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہیکہ لوگ ان سے خوف کھاتے تھے بلکہ ان کی اداکاری ہی کچھ ایسی تھی اداکاروں سے زیادہ ان کی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ آخر وہی تو تھی جو سب سے زیادہ فیس لیا کرتی تھی مگر پھر بھی ان کے گھر کے باہر فلم سائن کروانے والوں کی لائن لگی رہتی تھی۔ ادھر مدھو انٹرٹینمینٹ کا ایک کمپلیٹ پیکیج تھی۔وہ ہنستی ہنساتی تھی۔ 1949 میں فلم محل سے مدھو بالا راتوں رات سپر اسٹار بن گئی۔ یہ وہی فلم ہے جس میں ثریا کو لیا جانا تھا مگر مدھو کو لیا گیا اور مدھو نے ثابت کیا کہ جب مدھو آئے تو ثریا کو نیچے آنا پڑےگا۔ یہی فلم کمال امروہی کی ہدایتکاری کی ابتدا تھی اور ہاں، لتا منگیشکر بھی اسی فلم کے بعد مشہور لتا بن گئی بالخصوص ان کا آئے گا آنے والا نغمہ۔ مدھو نے اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور سنگ دل،ارمان، بہت دن ہوئے،راج ہاتھ، یہودی کی لڑکی،کالا پانی، چلتی کا نام گاڑی،دو استاد، برسات کی رات،بوائے فرینڈ اور ہاف ٹکٹ جیسی مشہور فلمیں کیں۔

مینا نے بچپن سے ہی اداکاری شروع کی، پہلے پہل مذہبی فلمیں کی۔ پھر فلم بائجو بوارا آئی اور اصل مینا کماری کی بالی ووڈ میں انٹری ہوئی، پھر کیا تھا، جدھر دیکھو مینا کماری تھی۔ وہ ایسی اکلوتی اداکارہ ہے جو بھارتی تہذیب کو اسکرین پر ہوبہو اتار دیا کرتی تھی۔ انداز، ناز، ادا، طرز، طور، طریقہ، سلیقہ، کردار، گفتار، غرض کتنے الفاظ لائیں۔ مینا اپنی اداکاری میں سب کو بخوبی نبھاتی تھی۔ اسے مکمل بھارتی ناری کو اسکرین پر دکھنے کا بھی اعزاز ہے۔ بائجو کے بعد کوہ نور، صاحب بیوی اور غلام، میں چپ رہوں گی، آرتی، دل ایک مندر، چتر لیکھا، کاجل،پھول اور پتھر،میرے اپنے، اور گومتی کے کنارے جیسی شہکار فلمیں دیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے دونوں خواتین کی اہم فلم کا تذکرہ نہیں کیا۔ بھائی مدھو کی مغل اعظم اور مینا کی پاکیزہ کا کیا تذکرہ کرنا۔ جس نے یہ دو فلمیں نہیں دیکھی ہیں وہ ہماری پوسٹ بھی نا پڑھے۔

مدھو کو دیکھ کر لگتا ہیکہ اگر کسی کی محبوبہ ہو تو ایسی ہی ہو۔ یہ الگ بات ہیکہ کسی کو ملنے سے رہی مگر خواہش کرنے میں کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو کسی میں مدھو دکھے تو اللہ سے دعا کریں۔ اور اگر نہ ملے تو بقول غالب اگر یہی حوریں وہاں ہوگئیں تو خلد میں جم کر انتقام لیجئے گا۔ مینا جی ایک مکمل خاتون نطر آتی ہیں۔ سکھی سنوری، وفا شعار، گویا کسی خوش نصیب کی بیوی ہو۔ اب یہ تو نصیب کی ہی بات ہے۔انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ ابھیشیک کو ایش مل گئی اور سلمان کنوارا رہا۔

ہمارا کیا، تصور میں ان دونوں کو بیوی اور محبوبہ بنا ہی سکتے ہیں۔ مگر ہاں ہماری بیگم تک یہ پوسٹ نہ جائے اور ان تک بھی نہیں جنہیں ہم اپنی مدھو مانتے ہیں۔

Bookmark the permalink.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے